امید

August 20, 2008


امید

بازار کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر بہت سارے مزدور بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک گاڑی آئی مزدوروں کے پاس آ کر رکی اور گاڑی کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اس نے مزدوروں میں‌سے ایک مزدور کو آواز دی۔ لیکن اس آدمی کی آواز پر سارے مزدور اس کے آس پاس آ کے جمع ہو گے۔ اس آدمی کو ایک مزدور کی ضرورت تھی جس پر سارے مزدور چاہتے تھے کے ان کو آج مزدوری مل جائے لیکن اس کو ایک مزدور کی ضرورت تھی۔ اس لے اس نے صرف اسی مزدور سے بات کی جس کو اس نے آواز دی تھی۔ دونوں میں بات چیت ہوئی۔ 200 روپے دن کی مزدور پر بات ختم ہو گی۔ اتنے میں ایک دوسرا مزدور بولا سر یہ کام میں 150 روپے میں کر دوں گا ۔ اس کی بات سن کر ایک اور مزدور بولا سر یہ کام میں 100 روپے میں کر دوں گا۔ ان سب کی باتین سن کر ایک بزرگ مزدور بولا۔ تم سب اپنی لڑائی میں اپنا ہی نقصان کر رہے ہو اس طرح ہمیں تو فائدہ نہیں ہو گا لیکن اس آدمی کو فائدہ ہو جائے گا۔ روزی دینے والا اللہ ہے پہلے مزدور کو اللہ نے روزی دےدی ہے ۔ اس کو جانے دے وہ 200 کی مزدوری کر لے تانکہ اس کا آج کا دن کچھ اچھا گزر جائے ہمیں بھی اللہ دے دے گا ۔ بزرگ کی بات سن کر سارے مزدور بھوکے ہونے کے باوجود پیچھے ہٹ گے اور پہلے والا مزدور اس آدمی کے ساتھ چلا گیا۔ باقی مزدور اسی فٹ پاتھ پر جا کر بیٹھ گے اس امید کے ساتھ کے اللہ ہمیں بھی رزق دے گا

خرم شہزاد خرم

اسلام اور مسلمان

August 11, 2008


 

    صبح
    (1)نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری
    کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی
    اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے
    بری ہے مستئ اندیشہ ہائے افلاکی
    تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن
    کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی
    زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
    ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی
    عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو
    کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی!

    (2)

    ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی
    اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند
    جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو
    تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند
    تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے
    وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند
    تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی
    مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی

    لا الہ الا اللہ

    خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
    خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ
    یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
    صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ
    کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
    فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ
    یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
    بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ
    خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
    نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ
    یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
    بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ
    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

    تن بہ تقدیر

    اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم
    جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر
    ‘تن بہ تقدیر’ ہے آج ان کے عمل کا انداز
    تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر
    تھا جو ‘ناخوب، بتدریج وہی ‘ خوب’ ہوا
    کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

    معراج

    دے ولولۂ شوق جسے لذت پرواز
    کر سکتا ہے وہ ذرّہ مہ و مہر کو تاراج
    مشکل نہیں یاران چمن ! معرکہ باز
    پر سوز اگر ہو نفس سینۂ دراج
    ناوک ہے مسلماں ، ہدف اس کا ہے ثریا
    ہے سر سرا پردۂ جاں نکتہ معراج
    تو معنیِ و النجم ، نہ سمجھا تو عجب کیا
    ہے تیرا مد و جزر ابھی چاند کا محتاج

    ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام

    تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
    زناری برگساں نہ ہوتا
    ہیگل کا صدف گہر سے خالی
    ہے اس کا طلسم سب خیالی
    محکم کیسے ہو زندگانی
    کس طرح خودی ہو لازمانی!
    آدم کو ثبات کی طلب ہے
    دستور حیات کی طلب ہے
    دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق
    مومن کی اذاں ندائے آفاق
    میں اصل کا خاص سومناتی
    آبا مرے لاتی و مناتی
    تو سید ہاشمی کی اولاد
    میری کف خاک برہمن زاد
    ہے فلسفہ میرے آب و گل میں
    پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں
    اقبال اگرچہ بے ہنر ہے
    اس کی رگ رگ سے باخبر ہے
    شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
    سن مجھ سے یہ نکتۂ دل افروز
    انجام خرد ہے بے حضوری
    ہے فلسفۂ زندگی سے دوری
    افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
    ہیں ذوق عمل کے واسطے موت
    دیں مسلک زندگی کی تقویم
    دیں سر محمد و براہیم
    ”دل در سخن محمدی بند
    اے پور علی ز بو علی چند!
    چوں دیدۂ راہ بیں نداری
    قاید قرشی بہ از بخاری ”
    ————-
    فارسی اشعار حکیم خاقانی کی ‘تحفۃ العراقین’ سے ہیں

    زمین و آسماں

    ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
    اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
    ہے سلسلۂ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں
    اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا
    شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی
    تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا!

 

تعلیم و تربیت

August 11, 2008


تعلیم و تربیت

    مقصود
    زمانۂ حاضر کا انسان
    اقوام مشرق
    آگاہی
    مصلحین مشرق
    مغربی تہذیب
    اسرار پیدا
    سلطان ٹیپو کی وصیت
    غزل
    بیداری
    خودی کی تربیت
    آزادی فکر
    خودی کی زندگی
    حکومت
    ہندی مکتب
    تربیت
    خوب و زشت
    مرگ خودی
    مہمان عزیز
    عصر حاضر
    طالب علم
    امتحان
    مدرسہ
    حکیم نطشہ
    اساتذہ
    غزل
    دین و تعلیم
    جاوید سے

 

    مقصود
    (سپنوزا)

    نظر حیات پہ رکھتا ہے مرد دانش مند
    حیات کیا ہے ، حضور و سرور و نور و وجود
    (فلاطوں(

    نگاہ موت پہ رکھتا ہے مرد دانش مند
    حیات ہے شب تاریک میں شرر کی نمود
    حیات و موت نہیں التفات کے لائق
    فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود
    ————————-
    ریاض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال میں لکھے گئے

    زمانۂ حاضر کا انسان

    ‘عشق ناپید و خرد میگزدش صورت مار’
    عقل کو تابع فرمان نظر کر نہ سکا
    ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
    اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
    اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
    آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا
    جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
    زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا!

    اقوام مشرق

    نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
    آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور
    زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر
    یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود لب گور!

    آگاہی

    نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس
    نہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے آگاہ
    خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا
    وہی ہے مملکت صبح و شام سے آگاہ
    وہی نگاہ کے ناخوب و خوب سے محرم
    وہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ

    مصلحین مشرق

    میں ہوں نومید تیرے ساقیان سامری فن سے
    کہ بزم خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالی
    نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
    پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی!

    مغربی تہذیب

    فساد قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
    کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
    رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
    ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق لطیف

    اسرار پیدا

    اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
    ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
    ناچیز جہان مہ و پرویں ترے آگے
    وہ عالم مجبور ہے ، تو عالم آزاد
    موجوں کی تپش کیا ہے ، فقط ذوق طلب ہے
    پنہاں جو صدف میں ہے ، وہ دولت ہے خدا داد
    شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
    پر دم ہے اگر تو تو نہیں خطرۂ افتاد

    سلطان ٹیپو کی وصیت

    تو رہ نورد شوق ہے ، منزل نہ کر قبول
    لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
    اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
    ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
    کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
    محفل گداز ! گرمی محفل نہ کر قبول
    صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
    جو عقل کا غلام ہو ، وہ دل نہ کر قبول
    باطل دوئی پسند ہے ، حق لا شریک ہے
    شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!

    غزل

    نہ میں اعجمی نہ ہندی ، نہ عراقی و حجازی
    کہ خودی سے میں نے سیکھی دوجہاں سے بے نیازی
    تو مری نظر میں کافر ، میں تری نظر میں کافر
    ترا دیں نفس شماری ، مرا دیں نفس گدازی
    تو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعت
    کہ موافق تدرواں نہیں دین شاہبازی
    ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا
    کہ سکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازی
    نہ جدا رہے نوا گر تب و تاب زندگی سے
    کہ ہلاکی امم ہے یہ طریق نے نوازی

    بیداری

    جس بندۂ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار
    شمشیر کی مانند ہے برندہ و براق
    اس کی نگہ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار
    ہر ذرے میں پوشیدہ ہے جو قوت اشراق
    اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
    تو بندۂ آفاق ہے ، وہ صاحب آفاق
    تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
    وہ پاکی فطرت سے ہوا محرم اعماق

    خودی کی تربیت

    خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف
    کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز
    یہی ہے سر کلیمی ہر اک زمانے میں
    ہوائے دشت و شعیب و شبانی شب و روز!

    آزادی فکر

    آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی
    رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
    ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار
    انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

    خودی کی زندگی

    خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
    نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہ فقیر
    خودی ہو زندہ تو دریائے بے کراں پایاب
    خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیان و حریر
    نہنگ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
    نہنگ مردہ کو موج سراب بھی زنجیر!

    حکومت

    ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
    شیخ و ملا کو بری لگتی ہے درویش کی بات
    قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع کردار
    بحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و صفات
    گرچہ اس دیر کہن کا ہے یہ دستور قدیم
    کہ نہیں مے کدہ و ساقی و مینا کو ثبات
    قسمت بادہ مگر حق ہے اسی ملت کا
    انگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخاب حیات!
    ————–
    ریاض منزل (دولت کد ہ سرراس مسعود)بھوپال میں لکھے گئے

 

عورت

August 11, 2008


عورت

    مرد فرنگ
    ایک سوال
    پردہ
    خلوت
    عورت
    آزادی نسواں
    عورت کی حفاظت
    عورت اور تعلیم
    عورت

 

     

      مرد فرنگ

      ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
      مگر یہ مسئلۂ زن رہا وہیں کا وہیں
      قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں
      گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ و پرویں
      فساد کا ہے فرنگی معاشرت پہ ظہور
      کہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں

      ایک سوال

      کوئی پوچھے حکیم یورپ سے
      ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش
      کیا یہی ہے معاشرت کا کمال
      مرد بے کار و زن تہی آغوش!

      پردہ

      بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے
      خدایا یہ دنیا جہاں تھی ، وہیں ہے
      تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں میں نے
      وہ خلوت نشیں ہے ، یہ خلوت نشیں ہے
      ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم
      کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے

      خلوت

      رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
      روشن ہے نگہ ، آئنہ دل ہے مکدر
      بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
      ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر
      آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
      وہ قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر
      خلوت میں خودی ہوتی ہے خودگیر ، و لیکن
      خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر

      عورت

      وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
      اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
      شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
      کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
      مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی ، لیکن
      اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

      آزادی نسواں

      اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
      گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند
      کیا فائدہ ، کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
      پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
      اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
      مجبور ہیں ، معذور ہیں ، مردان خرد مند
      کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
      آزادئ نسواں کہ زمرد کا گلوبند!

      عورت کی حفاظت

      اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
      کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
      نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
      نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد
      جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
      اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

      عورت اور تعلیم

      تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
      ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت
      جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن
      کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
      بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
      ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت

      عورت

      جوہر مرد عیاں ہوتا ہے بے منت غیر
      غیر کے ہاتھ میں ہے جوہر عورت کی نمود
      راز ہے اس کے تپ غم کا یہی نکتۂ شوق
      آتشیں ، لذت تخلیق سے ہے اس کا وجود
      کھلتے جاتے ہیں اسی آگ سے اسرار حیات
      گرم اسی آگ سے ہے معرکۂ بود و نبود
      میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں غم ناک بہت
      نہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی کشود

    !

ہماری نصحت بے اثر کیوں؟؟؟

August 7, 2008


ہماری نصحت بے اثر کیوں؟؟؟ 

 

 ہم ہر وہ کام خود کرتے ہیں جو کسی کو کرنے سے روکتے ہیں۔ آج صبح جب میں آفس آنے کے لیے گاڑی میں بیٹھا اس گاڑی کا کنڈیٹر نہیں تھا اس لے ڈریور صاحب نے خود کرایہ لیا اور کہنے لگے بھائی شیشے پر کوئی بھی ہاتھ نا مارے جس نے جہاں اترنا ہوا وہ گھنٹی بجا دے میں گاڑی روک دوں گا ۔ اس کے بعد گاڑی اپنی منزل کی طرف سفر کرنے لگی ابھی ہم کچیری تک ہی پونچے تھے کے ڈریور نے خود شیشے پر دستک دی اور اشارے سے پوچھنے لگا کیچری کوئی اترے گا تو نہیں۔ اس کی اس حرکت سے میرے زہین میں سوال پیدا ہوا کہ ہماری نصحتوں میں اثر کیوں نہیں ہوتا؟ پھر خود ہی میں نے اس کا جواب دیا ۔ جو کام ہم خود کرتیں ہیں وہی کام دوسروں کو کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری نصحتوں میں اثر نہیں ہوتا ۔ ہمارے بزرگ ہمیں سگریٹ پینے سے منع فرماتیں ہیں اور پھر خود ہی اپنے لیے ہم سے سگریٹ مگواتے ہیں۔ ہمارے سامنے سگریٹ پیتے ہیں ۔پھر ہم پر ان کی اس بات کا اثر کیوں ہو گا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ ہم نے ایک مذہبی ریلی نکالنے کا پروگرام بنایا۔ ہم نے لوگوں کو دعوت دینا شروع کی ۔ دعوت پھیلتی پھیلتی علاقے کے ایک مولانا صاحب کے پاس گی تو انھوں نے ہمیں ملاقات کی دعوت دی ۔ ہم سب لڑکے ان کے پاس چلے گے ۔ وہ ہمارے ساتھ بہت پیار سے پیش آئے اور پھر گفتگو کا آغاز کیا۔” دیکھا بیٹا آپ کا اور میرا مقصد ایک ہی ہے جس مقصد کے لیے آپ ریلی نکال رہے ہو اسی مقصد کے لیے میں ہر سال ریلی نکالتا ہوں تو کیا ہی اچھا ہو اگر ہم سب مل کر ایک ہی ریلی نکال لے میں ریلی اپنی مسجد سے شروع کرؤں گا اور پھر آپ کی مسجد کے پاس آؤں گا اور پھر اسی طرح علاقے کی تمام مساجد میں جائے گے آپ کیا کہتے ہیں“ ہمیں بہت خوشی ہوئی اور ہم نے فوراََ ان کی بات مان لی اور اپنی مسجد کے مولانا صاحب کے پاس آئے اور ان ساری بات بتا دی اس پر ہمارے مولانا صاحب سخت غصے میں آئے اور کہنے لگے ” بیٹا تم لوگ ابھی چھوٹے ہو تمہیں دین کے بارے میں اتنا پتہ نہیں ہے وہ مولانا صاحب اپنے نام کی خاطر ریلی نکالتے ہیں اور اس بار بھی ان کا مقصد یہی ہے وہ چاہتے ہیں میری ریلی میں زیادہ سے زیادہ لوگ ہو وہ آپ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں“ ہم سب حیران ہو گے کے ایک مولانا کی بات پر دوسرے مولانا صاحب کیتنے غصے میں آ گے ہیں خیر ہم پھر پہلے مولانا صاحب کے پاس گے اور انکار کر کے واپس آگے۔ پھر ہمیں اگلے دن اصل بات پتہ چلی کے دونوں مولانا صاحب کی آپس میں نہیں بنتی تھی اسی لے وہ ایک دوسری کے ریلی ، جلسے ، جلوس اور محافل میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ میں نے سوچا یہ وہی مولانا صاحب ہے جو جمعہ والے دن پورا ایک گھنٹہ ہمیں لیکچر دیتے ہیں غیبت کرنا ایسا ہے جیسا اپنے مرے بھائی کا گوست کھانا ہے کسی سے حسد نا کرو ہمیشہ دوسرے کی مدد کرو اور یہی مولانا صاحب خود دوسرے مولانا صاحب سے حسد کرتے ہیں ان کی غیبت کرتے ہیں۔ پھر ہم پر ان کی بات کا اثر کیسے ہو گا اس بات کا خیال رکھے جب بھی کسی کو کوئی نصحت کرے تو کوشش کیا کرے کم از کم اس کے سامنے وہ کام نا کیا کرے تانکہ ہماری نصحتوں میں اثر ہو خرم شہزاد خرم

پاکستان ؟؟؟

July 30, 2008


جب میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اپنے گھر کو دیکھ کر ہی بہت پرشان ہو گیا صبح، صبح اتنی صفائی۔ ہر چیز ترتیب سے رکھی ہوئی سب کھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے ایسا لگ رہا تھا میرا ہی انتظار کر رہیں ہوں مجھے دیکھتے ہی سب نے مسکرا کر مجھے خوش آمدید کیا۔ میں‌ان کو دیکھ کر شرمندہ سا ہو گیا بھاگتا ہوا غسل خانے میں گیا اور جلدی سے تیار ہو کر کھانے کی ٹیبل پر آ گیا۔سب بہت پُر سکون ناشتہ کر رہے تھے یہ سب دیکھ کر میں بہت حیران ہو رہا تھا ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوا کبھی بھی سب نے مل کر ناشتہ نہیں کیا یہ آج کیا انقلاب آ گیا ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ابو جی ناشتہ ختم کر کے آفس جانے لگے اور سب کو سلام کیا ۔ خیر صبح اکثر میں ابوجی سے ملاقات ہوا کرتی تھی کیوں کے میں اور ابو جی ہی آفس جاتے تھے اس لے صبح جلدی ہی اٹھتے تھے لیکن آج سب مجھ سے بھی پہلے اٹھے ہوئے تھے میں نے بھی ابو جی کو سلام کیا اور آفس کے لیے تیار ہونے لگا جس کی طرف دیکھتا وہ مسکرا کر بات کرتا اللہ اللہ یہ کیا ہوگیا ہے ہمارے گھر کو یہ کیا انقلاب ہے۔ آفس سے باہر نکلتے وقت ماں جی کو خدا خافظ کہنے لگا ہی تھا کے سب گھر والوں نے مجھے پہلے ہی خدا خافظ کہہ دیا ۔ جہاں سب اتنے دیر سے جاگتے تھے آج وہاں سب مجھ سے پہلے جاگے ہوئے تھے۔ یہ سب مجھے حیران کرنے کے لیے کافی نا تھا جب میں گھر سے باہر نکلا گلی میں قدم ہی رکھا تھا کہ آنکھں نکل کر باہر آنے لگی دور دور تک جتنے بھی مجھے مکان نظر آ رہے تھے سب کے سب بہت خوبصورت لگ رہے تھے ساری گلیاں صاف تھی۔ میں راستے میں جو بھی مجھے ملتا مسکرا کر السلام علیکم کہتا اور آگے نکل جاتا مجھے خوشی بھی ہو رہی تھی لیکن خوشی سے زیادہ حیرت ہو رہی تھی یہاں تو سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں راستے میں‌کیا ہو رہا ہے کوئی زندہ ہے یا مر گیا ہے کسی کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا لیکن یہ آج کیا ہو رہا ہے ۔ چلتے چلتے جب میں بس سٹاپ کے پاس پونچا تا ایک بار پھر حیرت کا ایک طوفان میری طرف آیا میں نے خود کو قابوں میں کیا اور کیا دیکھتا ہوں بس سٹاپ ایسے نظر آ رہا تھا جیسے کوئی پارک ہو بٹھنے کے لیے کرسیاں لگی ہوئی سب لوگ بہت آرام سے بس کا انتظار کر رہے تھے بہت اخترام سے گفتگو کا سلسلہ چل رہا تھا کہ اتنے میں ایک خاتوں بس سٹاپ کی طرف آئی میں نے دیکھا کوئی کرسی خالی نہیں تھی وہاں سے ایک نوجوان اٹھا اور ان کو بیٹھنے کی جگہ دی یہ سب کچھ دیکھ کر میں پرشان ہو ہی رہا تھا کہ اتنے میں بس آ گی۔ جب بس سٹاپ پر آ کے رکی پہلے مسافر قطار بناکر اترے اور پھر جو مسافر انتظار کر رہے تھے وہ سب بھی قطار بنا کر کھڑے ہو گے سب سے پہلے خواتین بس میں سوار ہوئی اس کے بعد باقی مسافر بس میں سوار ہونے لگے میں سب کو خیرت سے دیکھتا رہا جب سب مسافر بس میں سوار ہو گے تو اور بس چلے لگی تب مجھے یاد آیا میں نے بھی اسی بس میں جانا ہے اتنے میں بس کا دروازہ بند ہو گیا لیکن میں بھاگ کر لٹکنے کے لیے بس کے دروازے کو ہاتھ ہی رکھا تھا کے بس کی رفتار تیز ہو گی اور میں پیچھ زمیں پر گیرگیا اور بے ہوش ہو گیا  جب ہوش آئی تو کیا دیکھتا ہوں میں اپنی چارپائی سے نیچے زمیں پر گیرا ہوا ہوں صبح کے 7 بج رہے ہیں سارے کمرے کی چیزیں بے ترتیب رکھی ہوئی ہیں کتابیں ٹیبل پر اور کرسیوں پر رکھی ہوئی ہیں جوتے کمرے کے درمیان میں پڑھے ہوئے ہیں اور بستر یہاں کا وہاں جا رہا ہے میں جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف بھاگا یہ سوچ کر سب کھانے کی ٹیبل پر انتظار کر رہیں ہونگے لیکن جب دروازے سے باہر نکلا تو سامنے دیکھتا ہوں چھوٹے بھائی کا کمرہ بند ہے اس کا مطلب ہو ابھی تک سو رہا ہے باورچی خانے سے آمّی جی کی آواز آئی جلدی غسل کر کے آو ناشتہ تیار ہے میں نے پوچھا باقی سب کہاں ہے تو بولی وہ سب تو اپنے ٹیم پر اٹھے گے نا

یہ سو روپے کی لات ہے۔

July 20, 2008


اس کی آواز میں ایک دکھ کی سی کیفیت تھی۔ جو سب لوگوں کو اپنی طرف متوجو کر دیتی تھی۔ اب یہی وجہ تھی میری نظر بھی اس پر پڑھی اور جب میں نے اس کو دیکھ تو میرا دل ایک دم سے اداس ہو گیا کیوں کے وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا لیکن آنکھوں سے نابینا تھا اور لوگوں سے فریاد کر رہا تھا سب لوگ اس کو کچھ نا کچھ دے رہے تھے ۔ میرا دل نے بھی چاہا اور میں اسی گرز سے اس کے پاس چلا گیا ۔ میں نے اس کو اپنی جیب سے 100 روپے نکال کر دے اور اس کو حوصلہ دیتا ہوا چلا گیا ابھی میں گھر بھی نہیں پونچا تھا کہ دوستوں کا فون آ گیا ”شام کا کیا پروگرام ہے“ میں نے پوچھا کس قسم کا پروگرام۔ شام کو کہی جانا تو نہیں ہے نا ۔ نہیں۔ تو ٹھیک ہے شام کو سیروز پر فلم دیکھنے جانا ہے ۔کچھ سوچنے کے بعد چلو ٹھیک ہے
شام ہوئی سب دوست فلم دیکھنے کے لیے چلے گے۔سیروز کے باہر ہی ایک آدمی کسی لڑکے کو مار رہا تھا اور باقی سب لوگ اس کے پاس کھڑے تھے۔ سب دوستوں نے سوچا جا کر دیکھتے ہیں کیا ماجرا ہے ۔ جب پاس گے تو کیا دیکھا یہ وہی لڑا تھا جس کو اس نے 100 روپیہ دیا تھا۔ اس آدمی سے پوچھا ارے بھائی اس کو کیوں مار رہے ہو یہ تو بانینا ہے۔ وہ آدمی بولا اسی لے تو اس کو مار رہا ہوں۔ ابھی ایک گھنٹہ پہلے یہ ایم ایچ کے سامجھے لوگوں سے مانگ رہا تھا میں اس کے پاس گیا اور اس کو ایک ہزار روپے دے اور کہا بیٹا آپ مانگا نا کرو میں آپ کو ہر مہنے پورے مہنے کا خرچہ دے دیا کروں گا ۔ اس نے خوشی خوشی مجھ سے ایک ہزار روپے لیے اور چل دیا میں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو کہنے لگا گھر ۔ بہت مشکل سے سڑک کراس کی اور اداکاری کرتے ہوے چلتا رہا میں اس کو سچ کا نابینا سمجھتا رہا ۔ اور اس کے پیچھے چل پڑا اس گرز سے کے اس کا گھر دیکھ لوں اور ہر مہنے اس کو خرچ دے دیا کروں گا جب یہ تھوڑا سا دور گیا تو اس کی چال میں فرق آ گیا اور یہ ٹھیک سے چلنے لگا اور یہاں پونچ کر فلم کا ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑا ہو گیا جب اس نے ٹکٹ لے لیا تو پھر میں نے اس کو پکڑ لیا اور مارنا شروع کر دیا اس کی وجہ سے پتہ نہیں کتنے لوگوں کا حق مارا جاتا ہو گا ۔ یہ ساری بات سن کر اس نے بھی ایک لات اس کے پیٹ میں دے ماری اور کہا یہ سو روپے کی لات ہے۔

کیا یہ دوست ہے

July 15, 2008


مجھے اس کی بات سن کر نا تو غصہ آیا اور نا ہی حیرت ہوئی۔ کیونکہ میں‌اس سے پہلے بھی کہی دفعہ ایسی باتیں سن چکا تھا وہ ہمشہ میرے بارے میں لوگوں کو یہی بتاتا تھا کہ یہ بہت خود گرز ہے اور اپنے سوا کسی کو حاطر میں نہیں‌لاتا ہے۔ کسی کی بات نہیں‌سنتا اور نا ہی کسی کو اہمیت دیتا ہے۔خیر یہ تو میرے ساتھ ہر دفعہ ہی ہوتا آیا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا
بھائی کیا آپ ایسے ہی ہے جیسا آپ کا دوست آپ کے بارے میں کہتا ہے۔
کیا کوئی اپنے آپ کو بُرا کہہ سکتا ہے
نہیں
تو کیا کہتے ہو میں‌خود کو بُرا کہوں گا
نہیں
تو پھر پوچھنے کیا وجہ
آپ کا دوست جو آپ کے بارے میں ایسا کہتا ہے
ارے بھائی کیا کوئی دوست اپنے دوست کی بُرائی کرے گا کیا اس کی غلطیاں دوسروں کا بتائے گا
اچھا دوست تو کبھی نہیں بتائے گا
تو پھر وہ میرا دوست ہو سکتا ہے کیا
وہ خاموش ہو کر میری طرف دیکھنے لگا
چھوٹے بھائی بات کچھ بھی نہیں‌ہوتی لیکن لوگ اس کو بڑا چڑا کر بیان کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے بہت ساری غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے ایک بات یاد رکھو جب بھی کوئی بات کہہ تو زیادہ یہ کوشش کیا کروں اس بارے میں تحقیق کر لیا کرو تانکہ کبھی کوئی غلط فیصلہ نا کر سکو ۔ میرا دوست جو باتیں میرے بارے میں کہتا ہے ممکن ہے ، ممکن نہیں بلکے حقیقت میں‌یہ سچ ہی ہونگی کیوں‌کے اس نے کچھ نا کچھ مجھ میں‌دیکھا ہو گا تو اس نے میرے بارے میں ایسی رائے دی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ مجھے ان سب بُرائیوں سے دور کرے جو میرے دوست نے مجھ میں دیکھی ہیں۔

”میں“ اور ”میں“

June 28, 2008


لفظ ”میں“ میرے خیال انسان کے اندر غرور کا ایک پہاڑ ہے جس کا گیرنا بہت مشکل ہے اور اگر یہ پہاڑ گیر جائے تو انسان کامیاب زندگی گزار سکتا ہے ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ ایسے ملے گے جن کے اندر ”میں“ نہیں ہو گی اس کے علاوہ ہر طرف ”میں“ ہی ”میں“ نظر آتی ہے ”میں اگر تمہارا ساتھ نا دیتا تو تم ہار چکے ہوتے“ ، ”میں سوچتا ہوں اگر میں نا ہوتا تو اس ادارے کا کیا بنتا“ ، ”یہ سب میری زہانت کا ہی کمال ہے جو آج میں کامیاب ہو“ میں ”میں“ کے دو مطلب لیتا ہوں ایک تو اُوپر بیان کر چکا ہوں کہ ”جو کچھ ہو میں ہی ہوں میرے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ہے“
اور ”میں“ کا دوسرا مطلب تھوڑا سا مختلف ہے کچھ لوگ خود کو شریف ، نیک ، عقلمند وغیرہ وغیرہ ثابت کرنے کے لیے ”میں“ کو استعمال کرتے ہیں مثلاََ ”میں تو ملنگ ہوں مجھے کیا پتہ “ ”ارے بھائی ہم فقیروں کا زمانے سے کیا لینا دینا“
میرے خیال میں ہر انسان کے اندر کہی نا کہی ”میں“ ضرور ہوتی ہے اب ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی ”میں“ کس مطلب میں لیاجا رہا ہے ہر انسان تو ”میں“ کو اس طرح استعمال نہیں کرتا جس طرح میں سوچ رہا ہوں کچھ لوگو کی نیت تو صاف ہوتی ہے لیکن اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے کہ ”میں“ کو بطورِ کس معنی میں لیا جا رہا ہے تو ایسا دیکھنے کے لیے یا تو یا تو انسان کے دل کے اندر جا نا پڑھے گا یا پھر اس کا لہجہ دیکھنا پڑھے کا بہت سارے لوگوں کے لہجے سے پتہ نہیں چلتا لیکن پھر بھی میں یہ کہتا ہوں جب بھی ہم ”میں“ کا استعمال کرے تو بہت سوچ سمجھ کر

خرم شہزاد خرم

شیخ صاحب

June 28, 2008


یہ تو شیخ صاحب کی مہربانی تھی کہ وہ مجھ جیسے بے کار کو اپنے باس بیٹھنے دیتے تھے۔ گفتگو میں اتنا کمال تھاکہ بات شروع کر دے تو بات ختم کرنے کو لفظ ہی نہیں ملتے تھے بات کو کہی سے کہی لے جاتے جس کی وجہ سے سننے والوں پر ایک ایسا تاثر پڑھتا جو بیان سے بھی باہر ہے دل سے شیخ صاحب کے لیے ہا نکلتی۔دنیا کاکوئی ایسا کام نہیں جو شیخ صاحب نے نا کیا ہو یا نا آتا ہو۔ ہر کام کے ماہر تھے شیخ۔ ایک دن میرا کمپوٹر خراب ہو گیا مسئلہ کچھ یہ تھا جو میرے سمجھ سے باہر تھا۔(لیکن بعد میں پتہ چلامسئلہ کچھ بھی نہیں‌ تھا) صرف نیٹ نہیں‌ چلتا تھا۔ میں کوشش میں لگا ہوا تھا تو اچانک شیخ صاحب کہی سے آ نکلے۔ نا چاہتے ہوئے بھی چائے بنوانی پڑھی۔ کمپوٹر کو دیکھ کر بولے ۔محترم آپ کیا کر رہے تھے کمپوٹر پر۔ میں نے کہا شیخ صاحب نیٹ نہیں چل رہا اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بس اتنا بتانا تھا کے شیخ صاحب اٹھ کر کمپوٹر کے پاس آ گے اور کہنے لگے یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ایک منٹ میں‌حل ہو جائے گا ۔ میں نے بہت کوشش کی شیخ صاحب کو روکنے کی لیکن شیخ صاحب تو کمپوٹر میں‌اتنے ماہر تھے کے روکنے سے بھی نا روکے اور کمپوٹر کو کھولنا شروع کر دیا ۔ بس پھر کیا تھا شیخ صاحب نے وہ کمال دیکھایا کہ بس کمپوٹر صاحب دنیا کو خدا حافظ کہہ دیتے اگر بجلی نا چلی جاتی۔ بجلی گی تو میں نے اور کمپوٹر دونوں نے واپٹا والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اللہ ان کو خوش رکھے۔
یہ تو کچھ بھی نہیں‌شیخ صاحب کے بہت سے ایسے کارنامے ہیں‌جو اگر میں بیان کرنا شروع کر دوں تو دن گزرتے جائے لیکن شیخ صاحب کے کارنامے ختم ناہو۔ شیخ صاحب کے سامنے کوئی بھی بات کرو شیخ صاحب کا ایک ہی جواب ہوتا۔”میں جانتا ہوں“ یا پھر ”مجھے پتا تھا“ میرے مطابق دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا شیخ صاحب کو پتہ نا ہو ۔ایک دن ان کے ایک دوست نے شیخ صاحب کو فون کیا اور تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ شیخ صاحب اپنے دوست کو پیچھان نہیں‌سکھے اس لے ان کا پارہ چڑ گیا ۔ اور غصہ میں‌اپنے دوست کو اچھی اچھی باتیں کہنا شروع کر دی۔ جو میں یہاں بیان کروں تو آپ کی طرف سے اور زیادہ اچھی اچھی باتیں مجھے سننے کو ملے۔ پھر کیا تھا دوست نے دیکھا جب شیخ صاحب بہت زیادہ گرم ہو گے ہیں اب ان کو بتا ہی دینا چاہے۔ تو بولے جناب شیخ صاحب کیوں غصہ کر رہے ہیں میں‌ہوں میاں نوید۔ اس پر شیخ صاحب نے بہت آرام سے کہا جی جی مجھے پتہ تھا آپ ہی ہونگے اس لے میں غصہ دیکھا رہا تھا ۔